قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الْحَسَدِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4208 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ ابْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: حسد کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4208.   حضرت عبداللہ بن مسعود سے روا یت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسد (رشک) صرف دو ہی کامو ں میں جائز ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور اسے حق کی راہ میں خر چ کرنے پر لگا دیا ۔(اس سے رشک کرنا چا ہیے) اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے (دین کی) کر نے سمجھ دی وہ اس کے مطا بق فیصلے کرتا ہے۔ اوراس کی تعلیم دیتا ہے۔