قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

51.   حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ، بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ، بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَةُ، بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: بدعات اور غیر ضروری بحث و تکرار سے پرہیز کرنے کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

51.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص باطل پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے، اس کے لئے جنت کے اطراف میں ایک محل تیار کیا جائے گا اور جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے، اس کے لئے جنت کے وسط میں (محل) تیار کیا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے کر لے، اس کے لئے (جنت کے) بلند ترین حصے میں محل تیار کیا جائے گا۔‘‘