قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْإِمَامِ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ إِذَا حَدَثَ أَمْرٌ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

989.   حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي، مِمَّا أَعْلَمُ لِوَجْدِ أُمِّهِ بِبُكَائِهِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: کوئی خاص وجہ پیش آنے پرامام نماز کومختصر کرسکتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

989.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نماز شروع کرتا ہوں اور میرا ارادہ طویل نماز پڑھانے کا ہوتا ہے، پھر مجھے کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو نماز مختصر کر دیتا ہوں کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ اس کے رونے سے اس کی ماں پریشان ہوگی۔‘‘