قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالْإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

150. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ مُسْلِمٌ» أَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا «أَوْ مُسْلِمٌ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللهُ فِي النَّارِ».

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

تمہید کتاب (باب: ایسے شخص کی تالیف قلب کرنا، جس کے ایمان کے بارے میں اس کی کمزوری کی وجہ سے خوف ہو اور قطعی دلیل کے بغیر کسی کے ایمان کے بارے میں حتمی بات کہنے کی ممانعت)

مترجم: ١. پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

150.

سفیانؒ نے زہریؒ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامرؒ بن سعد(ابن ابی وقاصؓ) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تقسیم کا کچھ مال بانٹا تو میں نے عرض کی اللہ کے رسول! فلاں کو بھی دیجیے، کیونکہ وہ مومن ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’یامسلمان ہے۔‘‘ میں تین بار یہ بات کہتا ہوں اور آپ ﷺ تین بار میرے سامنے یہی الفاظ دہراتے ہیں ’’یا مسلمان ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں اللہ اس کو اوندھے منہ آگ میں (نہ) ڈال دے۔‘‘