قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الْآخِذَةُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1035.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

صحیح مسلم:

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1035.   حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپﷺ نے مجھے عطا فرمایا، میں نے (دوبارہ) مانگا تو آپﷺ نے مجھے دے دیا میں نے پھر آپﷺ سے سوال کیا تو آپﷺ نے مجھے دیا پھر فرمایا: ’’یہ مال شاداب (آنکھوں کو لبھا نے والا) اور شیریں ہے جو تو اسے حرص و طمع کے بغیر لے گا اس کے لیے اس میں برکت عطا کی جائے گی اور جو دل کے حرص سے لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جا ئے گی، وہ اس انسان کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے۔‘‘