قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ، وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

131.   حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا، كَتَبَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا، كَتَبَهَا اللهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً».

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: بندہ جب نیکی کاقصد کرتا ہے تو وہ لکھ لی جاتی ہے اور جب برائی کا قصد کرتا ہے تووہ نہیں لکھی جاتی

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

131.   عبدالوارثؒ نے جعد ابو عثمانؒ سے حدیث سنائی، انہوں نےکہا: ہمیں ابو رجاء عُطاردیؒ نے حضرت ابن عباسؓ سے حدیث سنائی، انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی (ان احادیث میں سے جنہیں وہ رسو ل اللہ ﷺ اپنے رب عزو جل سے روایت کرتے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اوربرائیاں لکھی ہیں، پھر ان کی تفصیل بتائی ہے کہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا، پھر وہ نیکی نہیں کی تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ دی۔ اور اگر نیکی کا ارادہ کیا، پھر وہ نیکی کر ڈالی تو اللہ عزوجل نے اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا (یا) اس سے زیادہ گنا تک لکھ لیا۔ اور اگر اس نے برائی کا ارادہ کیا، پھر اس کا ارتکاب نہ کیا تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھی۔ اور اگر اس نے (برائی کا) ارادہ کیا اور اس کو کر ڈالا تو اللہ نے ایک برائی لکھی۔‘‘