قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَاب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا ﷺ وَصِفَاتِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2293.   وَقَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ؟ وَاللهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " قَالَ: فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا»

صحیح مسلم:

کتاب: أنبیاء کرامؑ کے فضائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: ہمارے نبی کریم ﷺ کا حوض اور اس کی خصوصیات

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2293.   حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حوض میں (موجود) میں ہوں گا تاکہ دیکھوں کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے، کچھ لوگوں کو مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے ہی پکڑ لیا جا ئے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو کہا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا (کچھ ) کیا؟ آپ کے بعد انھوں نے اپنی ایڑیوں پر واپس گھومنے میں (ذرا) دیر نہیں کی۔‘‘ (نافع نے) کہا: ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے: ’’اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جائیں یا ہمیں کسی آزمائش میں ڈال کر اپنے دین سے ہٹا دیا جائے۔‘‘