قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ الوَصْلِ فِي الشَّعَرِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

5932.   حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ، وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ كَانَتْ بِيَدِ حَرَسِيٍّ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: «إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ»،

صحیح بخاری:

کتاب: لباس کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: بالوں میں الگ سے بناوٹی چٹیا لگانا اوردوسرے بال جوڑنا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5932.   حمید بن عبدالرحمن ست روایت ہے انہوں نے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ کو جس سال انہوں نے حج کیا تھا منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا جبکہ انہوں نےاپنے محافظ کے ہاتھ سے بالوں کا گچھا پکڑا ہوا تھا، تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جیسے بالوں سے منع کرتے سنا ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا: بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے ان کا استعمال شروع کر دیا تھا۔