قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ أَجَابَ الفُتْيَا بِإِشَارَةِ اليَدِ وَالرَّأْسِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

85.   حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُقْبَضُ العِلْمُ، وَيَظْهَرُ الجَهْلُ وَالفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الهَرْجُ»، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الهَرْجُ؟ فَقَالَ: «هَكَذَا بِيَدِهِ فَحَرَّفَهَا، كَأَنَّهُ يُرِيدُ القَتْلَ»

صحیح بخاری:

کتاب: علم کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب:اس شخص کے بارے میں جو ہاتھ لور سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دے۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

85.   حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’آئندہ زمانے میں علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت اور فتنے عام ہوں گے اور ہرج زیادہ ہو گا۔‘‘ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ہرج کیا چیز ہے؟ آپ نے اپنے دست مبارک سے اس طرح ترچھا اشارہ کر کے فرمایا، گویا آپ کی مراد قتل تھی۔