قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ اجْتِمَاعِ جِنَازَةِ صَبِيٍّ وَامْرَأَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1977.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ: «حَضَرَتْ جَنَازَةُ صَبِيٍّ وَامْرَأَةٍ، فَقُدِّمَ الصَّبِيُّ مِمَّا يَلِي الْقَوْمَ، وَوُضِعَتِ الْمَرْأَةُ وَرَاءَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِمَا»، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: «السُّنَّةُ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: بچے اور عورت کے جنازے اکٹھے ہو جائیں تو؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1977.   حضرت عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے کہ ایک عورت اور ایک بچے کے جنازے اکٹھے ہوگئے تو حضرت عمار ؓ نے بچے کی میت کو لوگوں کی طرف آگے رکھا اور عورت کو اس کے پیچھے (یعنی قبلے کی طرف) رکھا اور دونوں کا جنازہ (بیک وقت) پڑھا۔ حاضرین میں حضرت ابو سعید خدری، ابن عباس، ابو قتادہ اور ابوہریرہ ؓ بھی تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو ان سب نے کہا کہ یہی مسنون طریقہ ہے۔