قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ إِذَا أَوْصَى لِعَشِيرَتِهِ الْأَقْرَبِينَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3646.   أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جب میت اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کردے (تو مراد کون لوںگ ہوں گے؟)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3646.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأقْرَبِينَ﴾ ”اور ( اے پیغمبر!) اپنے قریبی رشتہ داروں (عذاب الٰہی) سے ڈرائیے۔“ تو آپ نے فرمایا: ”اے جماعت قریش! اپنے آپ کو (توحید کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے چھڑالو۔ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! میں تیرے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی صفیہ! میں تجھے بھی اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے محمد کی بیٹی فاطمہ! (دنیا میں) مجھ سے جو چاہے مانگ لے مگر اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے میں تجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکوں گا۔“