قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْعِلْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ​)

حکم : صحیح متواتر

ترجمۃ الباب:

2661.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتَهُ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جامع ترمذی:

كتاب: علم اور فہم دین کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2661.   انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے میرے متعلق جھوٹی بات کہی، (انس کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ آپﷺ نے (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّّ) کے بعد (مُتَعَمِّدً) کا لفظ بھی کہا یعنی جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، تو ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ یعنی زہری کی اس روایت سے جسے وہ انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں۔۲۔ یہ حدیث متعدد سندوں سے انس ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔