قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الَّذِي يُفَسِّرُ القُرْآنَ بِرَأْيِهِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2951.   حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

جامع ترمذی:

كتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں 

  (

باب: اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے کی مذمت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2951.   عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری طرف سے کوئی بات اس وقت تک نہ بیان کرو جب تک کہ تم (اچھی طرح) جان نہ لو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا وہ بھی اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔