قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ وَمَنِ انْتَظَرَ دَفْنَهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1539.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ» قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: «مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : نماز جنازہ کی ادائیگی اور میت کے دفن تک ٹھہرنے کا ثواب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1539.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جس نے انتظار کیا حتی کہ اس (کے دفن) سے فراغت ہو جائے، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔‘‘ صحابہ نے کہا: دو قیراط کیسے ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’دو پہاڑوں کے برابر۔‘‘