موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ الْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ)
حکم : صحیح
1989 . حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ لِخَلْقِ اللَّهِ» ، فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ: كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِهِ فَقَدْ وَجَدْتِهِ، أَمَا قَرَأْتِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] ، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولِينَ مَا جَامَعَتْنَا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل
باب: مصنوعی بال لگوانے والی اوربدن گودنے والی
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1989. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے گودنے والیوں پر، گدوانے والیوں پر، بال نوچنے والیوں پر، حسن کے لیے دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے والیوں پر اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔ قبیلہ بنو اسد کی ایک خاتون، جن کا نام ام یعقوب تھا، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: مجھے معلوم ہوا ہےکہ آپ نے یہ یہ بات فرمائی ہے۔ انہوں نے کہا: میں اس پر کیوں نہ لعنت کروں جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، اور یہ بات اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ اس نے کہا: میں نے تو شروع سے آخر تک سارا قرآن پڑھا ہوا ہے۔ مجھے تو (اس میں) یہ مسئلہ نہیں ملا۔ انہوں نے فرمایا: اگر تو نے (قرآن) پڑھا ہوتا تو تجھے (یہ مسئلہ) مل جاتا۔ کیا تو نے یہ نہیں پڑھا: ﴿وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟﴾ ’’رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں، اس سے رک جاؤ۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ (یہ تو پڑھا ہے۔) فرمایا: تو رسول اللہ ﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے۔ اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر والے یہ کام کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: جاؤ، جا کر دیکھ لو۔ اس نے جا کر دیکھا تو اسے کوئی ایسی بات نظر نہ آئی جو وہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے (واپس آ کر) کہا: مجھے تو کوئی بات نظر نہیں آئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: اگر وہ بات اسی طرح ہوتی جس طرح تو کہتی تھی تو وہ (بیوی) ہمارے ساتھ نہ رہتی۔