قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

214 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلَا رِيحَ لَهَا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: قرآن کا علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے والے کی فضیلت

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

214.   حضرت انس بن مالک ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو مومن قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ترنجبین کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور بو بھی خوش گوار ہے۔ اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال خشک کھجور کی سی ہے کہ اس کا ذائقہ اچھا ہےلیکن (اس میں) خوشبو نہیں۔ جو منافق قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ناز بو کی سی ہے، اس کی خوشبو تو اچھی ہے لیکن ذائقہ تلخ ہے، اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال تُمّے کی سی ہے اس کا ذائقہ بھی تلخ ہے اور خوشبو بھی نہیں۔‘‘