موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ أَجْرِ الرَّاقِي)
حکم : صحیح
2156 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا فِي سَرِيَّةٍ، فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ، فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يَقْرُونَا فَأَبَوْا، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ، فَأَتَوْنَا، فَقَالُوا: أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا، وَلَكِنْ لَا أَرْقِيهِ حَتَّى تُعْطُونَا غَنَمًا، قَالُوا: فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً، فَقَبِلْنَاهَا، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَبَرِئَ، وَقَبَضْنَا الْغَنَمَ، فَعَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ، فَقُلْنَا: لَا تَعْجَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي صَنَعْتُ، فَقَالَ: «أَوَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ اقْتَسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا» .
سنن ابن ماجہ:
کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل
باب: دم کرنے والے کا اجرت لینا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2156. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہم تیس سواروں کو ایک فوجی مہم پر بھیجا۔ (راستے میں) ہم کچھ لوگوں کے ہاں (ان کی بستی میں) ٹھہرے۔ ہم نے ان سے کھانا مانگا۔ انہوں نے (ہماری مہمانی کرنے سے) انکار کر دیا۔ (پھر ایسا ہوا کہ) ان کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، چنانچہ وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں سے کوئی شخص بچھو کاٹے کا دم کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں (کر سکتا ہوں) لیکن جب تک تم ہمیں بکریاں نہیں دو گے میں اسے دم نہیں کروں گا۔ انہوں نے فرمایا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے (تم دم کر دو۔) ہم نے ان کی یہ پیش کش قبول کر لی۔ میں نے سات بار سورہ فاتحہ پڑھ کر اس (مریض) پر دم کیا تو وہ صحت یاب ہو گیا اور ہم نے بکریاں وصول کر لیں، ہمارے دل میں شک پیدا ہوا۔ (معلوم نہیں، یہ بکریاں لینا جائز تھا یا نہیں) ہم نے کہا: جلدی نہ کرو حتی کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔ جب ہم لوگ حاضر خدمت ہوئے تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ یہ (سورت) دم ہے؟ بکریاں تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ رکھو۔