قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِﷺ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

36 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مَا لِيَ لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفُلَانًا وَفُلَانًا قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: رسول اللہ ﷺپر جان بوجھ کر جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

36.   حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے (اپنے والد) حضرت زبیر بن عوام ؓ سے عرض کیا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو اللہ کے رسول ﷺ سے اس طرح حدیثیں بیان کرتے نہیں سنتا جس طرح ابن مسعود ؓ اور فلاں فلاں صحابی کو سنتا ہوں؟ فرمایا: میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے نبی ﷺ سے (آپ کی وفات تک کبھی) جدا نہیں ہوا۔ لیکن میں نے آپ ﷺ سے ایک کلمہ سنا ہے (جس کی وجہ سے روایت حدیث سے اجتناب کرتا ہوں) آپ ﷺ فرماتے تھے: ’’جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ بولا، اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانا (جہنم کی) آگ میں بنالے۔‘‘