قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيَصُبُّ عَلَيْهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

389.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتْ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِنَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

کتاب تمہید  (

باب: وضومیں دوسرے آدمی سے مددلینااوراس کا پانی ڈالنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

389.   حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کسی کام سے تشریف لے گئے۔ جب آپ واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا۔ میں نے پانی ڈالا تو نبی ﷺ نے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر چہرہٴ مبارک دھویا، پھر اپنے بازو دھونے کا ارادہ کیا تو جبہ کی آستینیں تنگ معلوم ہوگئیں، چنانچہ آپ نے جبہ کے نیچے سے بازو نکال لیے اور انہیں دھویا اور موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔