قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ ذِكْرِ الْحَوْضِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4302.   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدَنَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: حوض کو ثر کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4302.   حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا حوض ایلہ سے لے کر عدن تک فاصلے سے زیادہ طویل وعریض ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اس (کے پانی) کا رنگ دودھ سے زیادہ سفید اور (ذائقہ) شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں لوگوں کو اس سے ہٹاؤں گا۔ جس طرح آدمی اپنے حوض سے بیگانے اونٹوں کو ہنکا دیتا ہے۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسولﷺ! کیا آپﷺ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں تم میرے پاس (حوض پر) آؤ گے تو وضو کے نشان سے تمھارے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے یہ علامت تمھارے سوا کسی اور (اُمت) کی نہیں ہوگی۔