موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْحَجِّ عَلَى الرَّحْلِ)
حکم : صحیح
2891 . حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالُوا وَادِي الْأَزْرَقِ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِنْ طُولِ شَعَرِهِ شَيْئًا لَا يَحْفَظُهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَى أَوْ لَفْتٍ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ وَخِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: کجاوے پر سوار ہو کرحج کرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2891. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: ہم مکے اور مدینے کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ ہم ایک وادی سے گزرے تو نبی ﷺنے فرمایا: ’’یہ کون سی وادی ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: یہ وادئ ازرق ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :’’گویا میں موسیٰ ؑ کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘ آپﷺ نے ان کے بالوں کی لمبائی کے بارہ میں کچھ فرمایا (جو راوی حدیث) داؤد (بن ابی ہند) کو یاد نہیں رہا۔ ’’انھوں نے کانوں میں انگلیاں ڈالی ہوئی ہیں، وہ اللہ سے بلند آواز سے فریاد کرتے ہوئے لبیک پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔‘‘ صحابی نے فرمایا: پھر ہم نے سفر جاری رکھا حتیٰ کہ ایک گھاٹی تک پہنچے تو آپ نے فرمایا: ہہ کون سی گھاٹی ہے؟ لوگوننے کہا ھرشی یالفت کی گھاٹی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں گویا یونس ؑ کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہیں ۔ اُون کا جبہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ ان کی اونٹنی کی مہار کھجور کی رسی کی ہے اور وہ لبیک پکارتے ہوئے وادی سے گزر رہے ہیں۔‘‘