قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ التَّمْرِ بِالزُّبْدِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3334.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْنَا تَحْتَهُ قَطِيفَةً لَنَا، صَبَبْنَاهَا لَهُ صَبًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْوَحْيَ فِي بَيْتِنَا، وَقَدَّمْنَا لَهُ زُبْدًا، وَتَمْرًا، وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کھجور مکھن کے ساتھ کھانا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3334.   حضرت عبد اللہ بن بسر سلمی ؓ اور حضرت عطیہ بن بسر سلمی ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے آپﷺ کے بیٹھنے کے لیے (زمین پر)ایک چادر ڈال دی۔ آپﷺ اس پر بیٹھ گئے۔ تب ہمارے گھر میں اللہ عزوجل نے رسول اللہ ﷺ پر وحی فرمائی۔ ہم نے آپﷺ کی خدمت میں مکھن اور خشک کھجوریں پیش کیں۔اور آپﷺ کو مکھن بہت پسند تھا۔ آپﷺ پر اللہ کی رحمتیں ہوں اور سلام ہو۔