قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

987.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَنِي عَلَى الطَّائِفِ قَالَ لِي «يَا عُثْمَانُ تَجَاوَزْ فِي الصَّلَاةِ، وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَالصَّغِيرَ، وَالسَّقِيمَ، وَالْبَعِيدَ، وَذَا الْحَاجَةِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: امام کو چاہیے کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

987.   حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے نبی ﷺ نے آخری نصیحت اس وقت کی، جب مجھے طائف کا امیر (گورنر) مقرر کیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’عثمان! نماز مختصر پڑھایا کرنا اور کمزور افراد کی مناسبت سے لوگوں (کی قوت برداشت) کا اندازہ کرنا کیوں کہ ان میں بوڑھے، بچے، بیمار دور سے آنے والے اور ضرورت مند (سب طرح کے لوگ) ہوتے ہیں۔‘‘