قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْقَسَامَةِ (بَابُ صِفَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ وَعَلَى مَنْ دِيَةُ الْأَجِنَّةِ وَشِبْهُ الْعَمْدِ، وَذِكْرُ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

4830.   أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ»

سنن نسائی:

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قتل شبہ عمد کا بیان اور اس کا کہ پیٹ کے بچے اور قتل شبہ عمد کی دیت کس کے ذمے ہوگی؟ نیز ابراہیم عن عبید بن نضیہ کے حضرت مغیرہ سے مروی روایت پر راویوں کے اختلافِ الفاظ کا ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4830.   حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ایسے ہی (تکلفاً) طبیب بن کر علاج کرے، حالانکہ (اس سے قبل) وہ مستند طبیب نہیں تھا تو (اگر کوئی نقصان ہو جائے) وہ ضامن (ذمہ دار) ہوگا۔“