قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3108.   حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >لَا يَدْعُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3108.   سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی دکھ کے آنے پر کوئی شخص ہرگز موت کی دعا نہ کرے، بلکہ چاہیئے کہ یوں کہے «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ” اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے خیر کا باعث ہو اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے وفات دیدے۔“