قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1955.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ فَإِذَا أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ قَالَ أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: شہداء کا جنازہ نہ پڑھنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1955.   حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ (کپڑوں کی کمی کی وجہ سے) شہدائے احد میں سے دو دو اشخاص کو ایک ایک کپڑے میں اکٹھا رکھتے تھے، پھر فرماتے: ”ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے؟“ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ اسے لحد میں (قبلے کی طرف) آگے رکھتے۔ اور آپ نے فرمایا: ”میں ان کے حق میں گواہی دوں گا۔“ اور آپ نے ان کو (کپڑوں اور جسموں پر) خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا۔ نہ ان کا جنازہ پڑھا اور نہ انھیں غسل دیا۔