قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ السِّوَاكِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

289.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَوَّكُوا فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ إِلَّا أَوْصَانِي بِالسِّوَاكِ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيَّ وَعَلَى أُمَّتِي وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ وَإِنِّي لَأَسْتَاكُ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مَقَادِمَ فَمِي

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

کتاب تمہید  (

باب: مسواک کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

289.   حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسواک کیا کرو کیوں کہ مسواک منہ صاف کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے والی ہے۔ جبریل ؑ جب بھی میرے پاس آئے، مسواک کی تاکید ضرور کی۔ حتی کہ مجھے خوف محسوس ہوا کہ مجھ پر اور میری امت پر وہ (مسواک) فرض کر دے جائے گی۔ اور اگرمجھے امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اسے ان پر فرض کر دیتا۔ میں تو اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ منہ کا اگلا حصہ چھیل ڈالوں گا۔‘‘