1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الدُّخُولِ عَلَى المَيِّتِ بَعْدَ المَوْتِ إ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1244. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ أَبْكِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْكِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا (جائز ہے)۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1244. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انھوں ن فرمایا:میرے والد جب(غزوہ احد میں)شہید ہوئے تو میں بار بار ان کے چہرے سے پردہ ہٹاتا اور روتا تھا ۔لوگ مجھے اس سے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ مجھے منع نہیں فرماتے تھے۔پھر میری پھوپھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگی تو نبی کریم ﷺ نےفرمایا:"تو رویا نہ رو،فرشتے تو ان پر اپنے پروں کاسایہ کیے رہے حتیٰ کہ تم نے انھیں اٹھالیا۔" ابن جریج نے شعبہ کی متابعت کی ہے۔انھوں نے کہا:مجھے محمد بن منکدر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے۔...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ الرَّجُلِ يَنْعَى إِلَى أَهْلِ المَيِّتِ بِن...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1246. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَإِنَّ عَيْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَذْرِفَانِ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: آدمی اپنی ذات سے موت کی خبر میت کے وارثوں کو سنا سکتا ہے )

مترجم: BukhariWriterName

1246. حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ذ"(جنگ موتہ میں)پہلے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ شہید ہوگئے۔پھرحضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ بھی شہید ہوگئے۔آخر میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھنڈا اٹھایا تو وہ بھی شہید ہوگئے۔اس وقت رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔۔۔پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سالاری کے بغیر ہی جھنڈا اٹھایا تو ان کے ہاتھوں فتح ہوئی۔"...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ : «يُعَذَّبُ المَيِّتُ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1284. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ وَمُحَمَّدٌ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرْسَلَتْ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِع...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1284. حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:نبی کریم ﷺ کی ایک صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا فوت ہورہاہے،آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں۔آپ نے سلام کہتے ہوئے واپس پیغام بھیجا اور فرمایا:(اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے) جواللہ نے لے لیا وہ اس کا تھا اور جو اس نے عطا کیا وہ بھی اسی کا ہے۔اس کے ہاں ہر چیز کاوقت مقرر ہے،اس لیے اسے چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کی طلب گار رہے۔"صاحبزادی نے پھر پیغام بھیجا اور آپ کو قسم دی کہ ضرور تشریف لائیں،چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ،معاذ بن جبل،ابی بن کعب،زید بن ثابت اور مزید چندلو...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ : «يُعَذَّبُ المَيِّتُ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1285. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْنَا بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ قَالَ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ قَالَ فَقَالَ هَلْ مِنْكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا قَالَ فَانْزِلْ قَالَ فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1285. حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:ہم نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کے جنازے میں حاضر تھے،جبکہ رسول اللہ ﷺ قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔پھر آپ نے فرمایا:"کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جس نے آج ہم بستری نہ کی ہو؟" حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:میں ہوں۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم قبر میں اترو۔"چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابٌ:)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1293. بَاب حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ قَدْ مُثِّلَ بِهِ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُجِّيَ ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ ذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالُوا ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو قَالَ فَلِمَ تَبْكِي أَوْ لَا تَبْكِي فَمَا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: )

مترجم: BukhariWriterName

1293. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انھوں نے فرمایا:میرے والد گرامی کو احد کے دن اس حالت میں لایاگیا کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔انھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ کر کپڑے سے ڈھانپ دیاگیا۔میں اس ارادے سے ان کے قریب گیا کہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاؤں لیکن میری قوم نے مجھے منع کردیا۔میں دوبارہ ان کے پاس گیا تاکہ کپڑا اٹھاؤں مجھے پھرلوگوں نے منع کردیا۔اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی میت کواٹھانے کا حکم دیا تو آپ نے چیخ مارنے والی عورت کی آواز سنی۔آپ نے فرمایا؛"یہ کون ہے؟"لوگوں نےبتایا کہ عمرو کی بیٹی یا ان کی بہن ہے۔آپ نے فرمایا:"یہ کیوں روتی ہے؟"یافرمایا:...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَنْ جَلَسَ عِنْدَ المُصِيبَةِ يُعْرَفُ فِيه...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1299. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ لَمْ يُطِعْنَهُ فَقَالَ انْهَهُنَّ فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَم...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: جو شخص مصیبت کے وقت ایسا بیٹھے کہ وہ غمگین دکھائی دے )

مترجم: BukhariWriterName

1299. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:جب نبی کریم ﷺ کے پاس حضرت زید بن حارثہ،حضرت جعفر اورحضرت ابن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کی خبر آئی تو آپ غمگین ہوکر بیٹھ گئے۔میں دروازے کی دراڑ سے دیکھ رہی تھی کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا جس نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عورتوں کے رونے دھونے کا ذکر کیا۔آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ انھیں گریہ وزاری سے منع کرو،چنانچہ وہ گیا اورواپس آکر عرض کیا کہ وہ نہیں مانتیں۔آپ نے پھر یہی فرمایا:"انھیں منع کرو۔"وہ تیسری مرتبہ واپس آکر کہنے لگا:اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ کی قسم وہ ہم پر غالب آگئیں اور نہیں مانت...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ البُكَاءِ عِنْدَ المَرِيضِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1304. حَدَّثَنَا أَصْبَغُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ فَقَالَ قَدْ قَضَى قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَي...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: مریض کے پاس رونا کیسا ہے؟ )

مترجم: BukhariWriterName

1304. حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے تو نبی ﷺ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،سعد بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔جب آپ وہاں پہنچے تو اسے اپنے اہل خانہ کے درمیان پایا تو آپ نے دریافت فرمایا:"آیا انتقال ہو گیا ہے؟"لوگوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول اللہ ﷺ !نہیں پھر نبی ﷺ روپڑے چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو روتا دیکھ کر دوسرے لوگ بھی رونے لگے۔ پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا:"کیا تم سنتے نہیں ہو؟اللہ تعالیٰ آنکھ کے ...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ النَّوْحِ وَالبُكَاءِ وَالز...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1305. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ لَمَّا جَاءَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ بِأَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى فَقَالَ قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ فَأَمَرَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

1305. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: جب زید بن حارثہ،جعفرطیار اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کہ خبر پہنچی تو نبی ﷺ بیٹھے اور آپکی ذات گرامی سے حزن و رنج ظاہر ہو رہا تھا۔ میں اس منظر کو دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا:اللہ کے رسول اللہ ﷺ !جعفرطیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عورتیں رورہی ہیں۔آپ نے اسے حکم دیا کہ انھیں رونے سے منع کرے وہ شخص گیا اور واپس آکر کہنے لگا:میں نے انھیں منع کیا ہے لیکن وہ باز نہیں آتیں۔ آپ نے اسے دوبارہ فرمایا کہ وہ انھیں منع کرے۔ وہ دوبارہ گیا اور ...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَنْ يَدْخُلُ قَبْرَ المَرْأَةِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1342. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ مِنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا قَالَ فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا فَقَبَرَهَا قَالَ ابْنُ مُبَارَكٍ قَالَ فُلَيْحٌ أُرَاهُ يَعْنِي الذَّنْبَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ لِيَقْتَرِفُوا أَيْ لِيَكْتَسِبُوا...

صحیح بخاری : کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: عورت کی قبر میں کون اترے؟ )

مترجم: BukhariWriterName

1342. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:ہم رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر کے جنازے میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ قبر کے پاس تشریف فر تھے۔میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ آپ نے فرمایا:" تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو آج رات اپنی بیوی سے ہم بستر نہ ہواہو؟"حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:میں ہوں۔ آپ نے فرمایا :"تم قبر میں اترو۔" چنانچہ وہ صاحبزادی کی قبر میں اترے اور انھیں لحد میں رکھا۔ عبد اللہ بن مبارک اپنے شیخ فليح کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہلم يقارفکے معنی"جس نے گناہ نہ کیا ہو"ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لِيَ...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ ظِلِّ المَلاَئِكَةِ عَلَى الشَّهِيدِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2816. حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ المُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: جِيءَ بِأَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، وَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ، فَنَهَانِي قَوْمِي فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ، فَقِيلَ: ابْنَةُ عَمْرٍو - أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو - فَقَالَ: «لِمَ تَبْكِي - أَوْ لاَ تَبْكِي - مَا زَالَتِ المَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا» قُلْتُ لِصَدَقَةَ: أَفِيهِ «حَتَّى رُفِعَ» قَالَ: رُبَّمَا قَالَهُ...

صحیح بخاری : کتاب: جہاد کا بیان (باب : شہیدوں پر فرشتوں کا سایہ کرنا )

مترجم: BukhariWriterName

2816. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میرے والد گرامی کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس حالت میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ میں نے ان کے چہرے سے کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا۔ اس دوران میں آپ ﷺ نے ایک چلانے والی عورت کی آوازسنی اور کہا گیا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم کیوں روتی ہو؟یا فرمایاتم اس پر مت رؤو، اس پر تو فرشتوں نے برابر اپنے پروں سے سایہ کررکھا ہے۔ "(امام بخاری ؓ کہتے ہیں کہ) میں نے(اپنے شیخ) صدقہ(راوی) سے دریافت کیا: اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: "حتیٰ کہ اس کو اٹھا لی...