1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ : قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «أَنَا أَعْلَمُكُمْ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

20. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ، أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا.»...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں۔ )

مترجم: BukhariWriterName

20. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب صحابہ کرام ؓ کو حکم دیتے تو انہی کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ بآسانی کر سکتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا حال آپ جیسا نہیں ہے۔ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمایا ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ اس قدر ناراض ہوئے کہ آپ کے چہرہ مبارک پر غصے کا اثر ظاہر ہوا، پھر آپ نے فرمایا: ’’میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار اور اللہ کو جاننے والا ہوں۔‘‘ ...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ تَشْبِيكِ الأَصَابِعِ فِي المَسْجِدِ وَغَيْر...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

482. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاَتَيِ العَشِيِّ - قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا - قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي المَسْجِدِ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، وَوَضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى عَلَى اليُسْرَى، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَوَضَعَ خَدَّهُ الأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ اليُسْرَى، وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ المَسْ...

صحیح بخاری : کتاب: نماز کے احکام و مسائل (باب: مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے۔ )

مترجم: BukhariWriterName

482. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زوال کے بعد کی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی اور دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد مسجد میں گاڑھی ہوئی ایک لکڑی کی طرف گئے اور اس پر ٹیک لگا لی، گویا آپ ناراض ہوں اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل فرمایا اور اپنا دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ لیا۔ جلد باز لوگ تو مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور مسجد میں حاضر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا: کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ ان لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ بھی موجود تھے، مگر ان دونوں نے...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المُسَاقَاةِ (بَابُ سَكْرِ الأَنْهَارِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2359. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ أَسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيّ...

صحیح بخاری : کتاب: مساقات کے بیان میں (باب : نہر کا پانی روکنا )

مترجم: BukhariWriterName

2359. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تین شخص ایسے ہیں جنھیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر کرم سے نہیں دیکھے گا اور نہ ان کو پاک ہی کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: ایک وہ شخص جس کے پاس لوگوں کےراستے میں فالتو پانی ہو اور وہ مسافروں کو نہ دے۔ دوسرا وہ شخص جو امام کی بیعت صرف حصول دنیا کے لیے کرے۔ اگر امام اسے کچھ دے تو اس سے راضی رہے اور اگر نہ دے تو اس سے ناراض ہوجائے۔ تیسرا وہ شخص جو اپنا سامان فروخت لے کر نماز عصر کے بعد بیٹھ جائے اور کہے: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! مجھے اس سامان کے عو...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المُسَاقَاةِ (بَابُ سَكْرِ الأَنْهَارِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2359.01. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ أَسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيّ...

صحیح بخاری : کتاب: مساقات کے بیان میں (باب : نہر کا پانی روکنا )

مترجم: BukhariWriterName

2359.01. حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا کہ ایک انصاری نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حرہ کے برساتی نالے کے متعلق مقدمہ پیش کیا جس سے وہ اپنے کھجور کے درختوں کو سیراب کیاکرتے تھے۔ انصاری نے کہا کہ پانی چھوڑے رکھو کہ چلتا رہے لیکن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کامطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ نبی کریم ﷺ کے حضور دونوں مقدمہ لے کرحاضر ہوے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: "اے زبیر!(اپنا نخلستان) سیراب کرکے پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑدو۔ "یہ سن کر انصاری ناراض ہوکر کہن...


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المُسَاقَاةِ (بَابُ شِرْبِ الأَعْلَى إِلَى الكَعْبَيْنِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2362. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجٍ مِنْ الْحَرَّةِ يَسْقِي بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوفِ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ يَرْجِعَ الْمَاءُ إِلَى الْجَدْرِ وَاسْ...

صحیح بخاری : کتاب: مساقات کے بیان میں (باب : بلند کھیت والا ٹخنوں تک پانی بھر لے )

مترجم: BukhariWriterName

2362. حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ انصارکے ایک آدمی کا حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مقام حرہ کے ایک برساتی نالے سے اپنے نخلستان کو سیراب کرنے کے متعلق جھگڑا ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے زبیر!پانی پلاؤ پھر اسے اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔ "آپ نے د ستور کے مطابق ایسا کرنے کا حکم دیا، لیکن انصاری نے کہا: یہ اس وجہ سے کہ وہ(زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: "زبیر!اپنے درختوں کو سیراب کرو، پھر پانی روک لو تاآنکہ وہ منڈیر پر چڑھ جائے۔ "حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو واج...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا (بَابُ هَدِيَّةِ مَا يُكْرَهُ لُبْسُهَا)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2614. حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ المَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَهْدَى إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ، فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي»...

صحیح بخاری : کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان (باب: ایسے کپڑے کا تحفہ جس کا پہننا مکروہ ہو )

مترجم: BukhariWriterName

2614. حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا تو میں نے اسے پہن لیا، لیکن میں نے جب آپ کے چہرہ انور پر غصہ دیکھا تو اسے پھاڑ کر خاندان کی عورتوں میں تقسیم کردیا۔


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصُّلْحِ (بَابُ إِذَا أَشَارَ الإِمَامُ بِالصُّلْحِ فَأَبَى،...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2708. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ، كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الحَرَّةِ، كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلاَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْزُّبَيْرِ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ»، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «اسْقِ، ثُمَّ...

صحیح بخاری : کتاب: صلح کے مسائل کا بیان (باب: اگر حاکم صلح کرنے کے لیے اشارہ کرے اور کوئی فریق نہ مانے تو قاعدے کا حکم دے دے )

مترجم: BukhariWriterName

2708. حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، وہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کا ایک انصاری بدری صحابی سے حرہ کے برساتی نالے کے متعلق جھگڑا ہوا جس سے وہ دونوں(اپنی زمینوں کو) پانی پلایاکرتے تھے۔ وہ اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "زبیر! تم زمین سیراب کر کے پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑدو۔ "اس سے انصاری غضبناک ہوکر کہنے لگا: اللہ کے رسول ﷺ ! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے؟یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ کاچہرہ انور متغیر ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا: "اے زبیر! تم ا پنی زمین کو سیراب کرو، پھر پانی کو روکے رکھو حتیٰ ک...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابٌ:)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3405. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَغَضِبَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهَ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ...

صحیح بخاری : کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب: )

مترجم: BukhariWriterName

3405. حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے مال تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہے۔ میں یہ سن کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ کو بتایا تو آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ میں نے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے۔ پھر آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحمت کرے !انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی، تاہم انھوں نے صبر سے کام لیا۔ "...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ ( بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِنَّ يُونُسَ ل...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3414. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ اللَّيْثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَتَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ فَقَالَ لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَامَ فَلَطَمَ وَجْهَهُ وَقَالَ تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا فَمَا بَالُ فُلَانٍ لَطَمَ وَجْهِي فَقَالَ لِمَ لَطَ...

صحیح بخاری : کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“ )

مترجم: BukhariWriterName

3414. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک دفعہ ایک یہودی نے اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے رکھا۔ اس کو اس کی قیمت تھوڑی دی جارہی تھی جس سے وہ ناخوش تھا۔ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی!یہ جملہ ایک انصاری مرد نے سن لیا، چنانچہ وہ کھڑا ہوا اور یہودی کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا کہ تو یہ بات کہتا ہے : قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی، حالانکہ نبی کریم ﷺ ہم میں موجود ہیں؟وہ یہودی آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابو القاسم!مجھے امان اور عہد مل ...